Preparation for death before death | Urdu story

InQoutes
0

 


Preparation for death before death | Urdu story 

موت سے پہلے موت کی تیاری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں کے اندر ایک فقیر رہا کرتا تھا جو بہت ہی زیادہ نیک تھا اللہ کی ہر وقت عبادت کیا کرتا تھا اس شخص نے اپنی زندگی کو اللہ کے لیے وقف کر دیا تھا اور دنیا سے پہلا کو کر اپنے رب کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا تھا جس گاؤں کے اندر وہ رہتا تھا وہاں پر لوگ جو تھے وہ نماز نہیں پڑھتے تھے بالکل اللہ کی نافرمانیاں کرتے تھے وہ یہ دیکھ کر بہت ہی زیادہ پریشان ہوتا تھا اور سوچتا تھا کہ یہ لوگ اس دن کے بارے میں جانتے بھی نہیں ہیں جس دن اللہ تعالی اس زندگی کے بارے میں پوچھے گا وہ لوگ مکمل طور پر گمراہ ہو چکے تھے اور دین کی طرف ان کی ذرا سا بھی توجہ نہیں تھی تو فقیر ہر روز ان لوگوں کو دیکھتا تھا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو گالیاں نکالتے تھے غلط کام کرتے تھے اس گاؤں کے اندر وہ ایک ہی فقیر تھا جو اللہ کی صرف عبادت کرتا تھا وہ فقیر اتنا زیادہ نیک تھا اور اتنا زیادہ اللہ سے ڈرتا تھا کہ وہ لوگوں کو نصیحت کرتا رہتا تھا کہ اے لوگوں اللہ کی طرف ا جاؤ اللہ کی عبادت کرو اللہ کی نافرمانیاں نہ کرو اس شخص کی زندگی کے تقریبا 10 سال اسی گاؤں کے اندر اسی نصیحت کرتے ہوئے گز گے تھے وہ فقیر صبح شام لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا تھا لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتا تھا لوگوں کو کہتا تھا کہ اے لوگوں اللہ کی عبادت کرو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اللہ کی نافرمانی کے اندر رسوائی پڑھی ہے پورے کاموں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف ا جاؤ لیکن لوگ اس کی باتوں پر توجہ نہیں دیا کرتے تھے لوگ اس کی باتوں کو سنتے بھی نہیں تھے لیکن وہ شخص نیک تھا لوگوں کو بلاتا رہتا تھا 10 سال سے زیادہ عرصہ اس کو اسی بات کو کرتے ہوئے گزر گیا تھا کہ اے لوگوں اللہ کی عبادت کرو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اللہ کی نافرمانیاں نہ کرو لیکن لوگ اس کے پاس سنتے ہی نہیں تھے اور اس کو پاگل اس کو مجنوں اور اس کو دیوانہ کہتے تھے لیکن اس شخص نے ان تمام باتوں کو سننے کے باوجود بھی ان کو ایک ہی نصیحت کرتا تھا کیا لوگوں اللہ کی نافرمانی نہ کرو نماز پڑھو نماز پہ زور دو کیونکہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے لیکن لوگ اس کی باتوں کو سنتے بھی نہیں تھے لوگ اس کی طرف توجہ بھی نہیں دیتے تھے کافی عرصہ گزر جانے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ کوئی بھی اس کی طرف نہیں ا رہا اس کی بات کو نہیں مان رہا کیونکہ لوگ گناہوں کے اندر ڈوب چکے تھے وہ بیچاررا لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا تھا اسی گاؤں کے نزدیک ایک دریا بہتا تھا اسی دریا کے پاس صبح شام بیٹھا رہتا تھا اور تقریبا اس کو ایک سال گزر گیا کہ اسی دریا کے پاس بیٹھتا تھا وہیں عبادت کرتا تھا وہیں سوتا تھا لوگ وہاں سے گزرتے تھے لوگ اسے ہر روز دیکھتے تھے اور کچھ دنوں کے بعد کافی عرصے کے بعد لوگوں نے اس سے پوچھا کہ اپ یہاں پر کیوں بیٹھے رہتے ہو یہاں سے اگے پیچھے بھی کہیں نہیں جاتے ہو تو اس نے اگے سے ان لوگوں کو جواب دیا کہ میں اس سے انتظار کے اندر ہوں کہ یہ دریا جب سوکھ جائے گا تو میں اس کے اندر سے گزر جاؤں گا بس اسی انتظار کے اندر ہوں کہ یہ دریا کب سوکھے گا اور میں کب اس کے اندر سے گزروں گا جب لوگ اس کی یہ بات سنتے تو اس کو اگے سے کہتے تھے کہ اے بابا جی دریا تو کبھی بھی نہیں سکے گا تو کیوں اس دریا کے انتظار کے اندر بیٹھا ہے لوگ اس کو اگے سے یہ جواب دیتے تھے لیکن وہ سن لیتا تھا تین چار سال جب اسی باتوں باتوں میں گزر گئے وہ بابا جی اسی دریا کے کنارے بیٹھتے تھے وہیں سوتے تھے وہیں کھاتے تھے اور دریا کی طرف ہر وقت دیکھتے رہتے تھے لوگ بھی اس کو ہر روز دیکھتے تھے لیکن یہی بات کرتے تھے کہ بابا جی اپ یہاں پر کیوں بیٹھے ہیں تو وہ اگے سے ان کو ایک ہی جواب دیتا تھا کہ میں اس انتظار کے اندر ہوں کہ جب دریاسوکھ جائے گا تو میں اس کے اندر سے گزر جاؤں گا ایک دن پورا گاؤں جمع ہوا اور اس بابا جی کے پاس ا کر بابا جی کو کہنے لگا بابا جی اپ کو کیا مسئلہ ہے اپ پاگل تو نہیں ہو گئے یہ دریا کبھی بھی نہیں سوکھے گا اپ سردی ہو گرمی ہو اپ ادھر ہی بیٹھے رہتی ہو خدا کے لیے اس طرح اپنے اپ کو تکلیف نہ پوچھا ہو اور ہمارے ساتھ چلو اور غرق کے اندر رہو جب اس بابا جی نے لوگوں کی یہ باتیں سنی تو لوگوں کو کہا کہ اے لوگوں اب میری بات کو سنو جس طرح یہ دریا کبھی نہیں سوکھے گا اسی طرح تمہاری زندگی کی جتنی بھی ضروری ہے وہ بھی کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی تم یہ سوچ کر عبادت نہیں کرتے کہ بہت ساری زندگی پڑی ہے پہلے اپنی زندگی کی ساری ضروریات کو پوری کر لیتا ہوں پھر اللہ کی طرف اؤں گا لیکن میری ایک بات یاد رکھنا یہ زندگی ختم ہو جائے گی لیکن تمہاری زندگی کی جتنی بھی ضروریات ہیں یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی یہ بڑھتی جائیں گی اس سے پہلے کہ موت تمہیں ا کر پکڑ لے اپنے اللہ کی طرف ا جاؤ اور اللہ کے سامنے جھک جاؤ اور اللہ کا کہو کہ اے اللہ مجھ سے غلطیاں ہو گئی تھی مجھے معاف کر دے تو اس غفلت کے اندر ہو کہ زندگی بہت زیادہ پڑی ہے کچھ نہیں ہوتا گناہ کر لیتا ہوں ورنہ نہیں ہے تم لوگوں کو جب اس بابا جی کے لوگوں نے یہ باتیں سنی تو پورا گاؤں رونے لگ گیا اور بابا جی کے پاؤں میں گر گیا اور کہا اے بابا جی تو نے ہم نے اس دن سے پہلے خبردار کر دیا جس دن کوئی کسی کے کام نہیں ائے گا قیامت کے دن وہ پورا گاؤں رونے لگا اور بابا جی کا شکر ادا کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ واقعی زندگی ختم ہو جانے والی چیز ہے لیکن زندگی کی جتنی بھی ضروریات ہیں یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی یہ ہمیشہ بڑھتی جائیں گی لیکن ہم اس غفلت کے اندر پڑے ہوئے ہیں کہ پہلے نوکری کر لیتے ہیں پہلے گھر بار بنا لیتے ہیں پھر نماز پڑھیں گے پھر حج کریں گے پھر زکوۃ دیں گے لیکن اسی سلسلے کے اندر یہ زندگی ختم ہو جائے گی اور ہمیں اس بات کا احساس تک بھی نہیں ہوگا اور اسی سوچ کے اندر پورے گاؤں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور اللہ کو اپنا مددگار اور اللہ کے فرمانبردار ہو گئے اور اللہ سے ڈرنے لگ گئے اور اس بابا جی کا اس نے شکر ادا کیا اور وہ بابا جی بھی اسی گاؤں کے اندر واپس لوٹ گئے اور خوشی کے ساتھ زندگی گزارنے لگے اور ان لوگوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ لوگوں اللہ کی فرمانبردار بن جاؤ اللہ کی نافرمانیاں نہ کرو یہ زندگی مختصر ہے یہ زندگی عارضی ہے کہ زندگی ختم ہو جانے والی چیز ہے لیکن انسان کی ضروریات جو ہیں یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی یہ ہمیشہ بڑھتی جائیں گے انسان ختم ہو جائے گا لیکن انسان کی جو ضروریات ہیں یہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گی اس لیے اپنی ضروریات کو ترک کر دو پہلے اپنے اللہ کو سامنے رکھو پھر ضروریات کرو کوئی انشاء اللہ تمہاری زندگی کی ضروریات بھی پوری ہوں


نصیحت


پیارے دوستو اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کرنی ہے اگر ہم موت سے پہلے موت کی تیاری نہیں کریں گے تو پھر ہم موت کے بعد پچھتائیں گے اس لیے دنیا کی جو بھی ضروریات ہیں انہیں پہلے نہ رکھیں پہلے دین کو رکھیں اور اپنی اخرت کی فکر کریں کیونکہ دنیا ختم ہو جائے گی اور انسان بھی ختم ہو جائے گا لیکن نہ انسان کی ضروریات ختم ہوں گی جب تک کہ انسان دنیا کے اندر ہے انسان کے ساتھ اس کی ضروریات بھی ختم ہو جاتی ہیں اس لیے دین کی فکر کرو کیونکہ اپ کو اللہ کے حضور پیش ہو کر اللہ کو اپنی زندگی کا جواب دینا ہے اس لیے موت سے پہلے موت کی تیاری کرو تاکہ قیامت والے دن جنت کے اندر ارام کے ساتھ داخل ہو جاؤ اور اگر اپ موت سے پہلے موت کی تیاری کرو گے تو دنیا کے اندر بھی اپ کی زندگی خوبصورت ہو جائے گی


...........................................................................

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)