hot urdu story | sexy urdu desi urdu story story |

InQoutes
0

 hot urdu story | sexy urdu desi urdu story story 

Body hungry boy
جسم کا بھوکا لڑکا 




مجھے ایک دفعہ اپنے ماموں کی بیٹی سے محبت ہو گئی مجھے وہ بہت ہی زیادہ اچھی لگتی تھی میں جب بھی سکول سے اتا تھا تو میں انہی کے گھر چلا جاتا تھا میری عمر اس وقت تقریبا 17 سال تھی لیکن وہ مجھے لڑکی اتنی اچھی لگی اتنی اچھی لگی کہ میرے خوابوں میں وہی اتی تھی میری نیندوں میں وہی اتی تھی بس میرا دل کرتا تھا کسی نہ کسی طرح اس کے ساتھ ایک رات گزاروں کسی نہ کسی طرح اس کے اندر کروں اس سے مزہ لوں اس کے پڑا پڑے سینے تھے اس کی موٹی موٹی گاںڈ تھی بس میں اسی چکر کے اندر تھا کسی نہ کسی طرح اس کو پھسا کر اس کی لینی ہے کیونکہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا میرا لن مجھے سونے نہیں دیتا تھا میرا لن مجھے بس یہی کہتا تھا کسی نہ کسی طرح اس لڑکی کے اندر کرنا ہے اور بس اسی ہمارے پاس یہی میرا خیال تھا میں جب بھی سکول سے اتا تھا تو ا کر میں انہی کے گھر چلا جاتا تھا وہ میری طرف دیکھتی تھی میں بھی اس کی طرف دیکھتا تھا لیکن مجھے میرے ماموں کا ڈر تھا جو کہ ایک فوجی افسر تھا مجھے اس کا ڈر رہتا تھا کہیں اگر اس کو اس بات کا پتہ چل گیا تو کام کے خراب نہ ہو جائے میں نے اپنے گھر والوں سے بات کی کہ مجھے وہ پسند ہے میری اس سے شادی کر دیں تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا سا صبر کرو دو چار سال ہم کر دیں گے میرے گھر والوں نے میرے ماموں سے بات کی تو وہ مان گئے ٹھیک ہے میں اپنی بیٹی اس کو دوں گا لیکن تین چار سالوں کے بعد لیکن مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا مجھے بس لینے ہی لینے تھی اور اسی سوچ کے اندر انہی خیالاتوں کے اندر جی رہا تھا میں اپنے دوستوں کو بھی یہ باتیں بتاتا تھا وہ بھی مجھے کہا کرتے تھے کہ سفر کر شادی ہو جائے گی بعد میں جو مرضی کرنا لیکن مجھے برداشت ہی نہیں ہوتا تھا میں کیا کرتا مجھے اس کی ہر وقت خیال اتے رہتے تھے بس مجھے اس کے اندر کرنا تھا اس کے علاوہ مجھے اور کوئی پتہ ہی نہیں تھا اس کی محبت میں میں اتنا زیادہ پاگل اور اتنا زیادہ دیوانہ ہو چکا تھا کہ مجھے دنیا کی اور کوئی چیز دکھتی ہی نہیں تھی
ایک دن ایسا ہوا کہ میں ان کے گھر گیا تو نہ اس کے گھر کے اندر اس کی ماں تھی کیونکہ اس کی ماں اس کی بہن اور اس کے بھائی یہ تینوں بازار میں سے کوئی چیز لینے چلے گئے تھے اور وہ گھر کے اندر اکیلی تھی کیونکہ میرا مامو جو تھا وہ جاب جو ہوا کرتا تھا وہ گھر مہینے میں یا چھ مہینوں کے اندر دو یا تین بار اتا تھا جامع ان کے گھر گیا تو ان کا گھر بالکل خالی تھا ان کے گلی کے اندر کوئی بھی نہیں تھا سوائے اس کے جب میں نے اس کو دیکھا اکیلے میں تو مجھ سے برداشت ہی نہ ہوا اور میرا دل اس کو پکڑ لوں اور بیڈ کے اوپر لٹا دوں اور بس اس کا کام تمام کر دوں لیکن پھر میں ڈر رہا تھا کہ اوپر سے اگر کوئی اور اگیا تو کام بالکل خراب ہو جائے گا اسی ڈر سے میں کافی دیر تک سوچتا رہا اور سوچتی سوچتے اس کے گھر والے بھی گھر ا گئے میں نے شکر کیا کہ شکر ہے میں نے اس کو پکڑا نہیں ورنہ کام خراب ہو جانا تھا اور سارے کے سارے پلان کے اوپر پانی پھر جانا تھا پھر میں گھر ایا اور کافی دیر تک سوچتا رہا کہ اخر ایسا کیا کیا جائے کہ اس تو اس کو کسی نہ کسی طرح ایک رات کے لیے بٹ کے اوپر لایا جائے اسی سوچ کے اندر کافی دن گزر گئے لیکن میرے پلان میں کوئی بھی ایسا خیال نہ ایا جو مجھے اس منزل تک پہنچا پاتا پھر میں نے سوچا چلو شادی ہو جائے گی تو پھر مزے ہی مزے ہوں گے لیکن میرا دل بس ایک ہی ضد کر رہا تھا نہیں نہیں شادی سے پہلے اس کا کام تمام کرنا ہی ہے لیکن ایسا کر پانا یقینا بہت ہی زیادہ مشکل تھا کیونکہ یہ کوئی کام اسان نہیں تھا اس سے رشتہ داری بھی ختم ہو سکتی تھی اور رشتے داری پر بھی سکتی تھی لیکن میرے خیالوں میں میرے خوابوں میں تو بس وہی تھا اور کوئی بھی نہ تھا اور دل کر رہا تھا کسی نہ کسی طرح شادی سے پہلے کام کیا جائے میں گھر ایا اور سوچتا رہا اس کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے کام کے لیے لاہور بھیج دیا میں وہاں پر تین چار مہینے کام کرتا رہا اور یہ میرے لیے مجبوری تھی کیونکہ مجھے گھر والوں کی بات کو بھی ماننا تھا وہاں پر دو چار مہینے رہا میں کھاتا رہا پیتا رہا دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا رہا وہاں پر لاہور کے اندر ایک جگہ پر جہاں پر پیسے لے کر جسم فروش کیا جاتا تھا میرے دوست نے مجھے عادت دی تو میں وہاں پر چلا گیا وہاں یقین مانو میں نے ایک ہزار روپے کے اندر پوری رات مزے لی اور مجھے عادت پڑ گئی اور یقین مانو میں ایک مہینے تک وہاں جاتا رہا اور مزے لیتا رہا اور مجھے وہ بھی بھول گیا جس کے لیے میں نے اتنی ساری کوششیں کی تھی ایک ہزار روپے کے اندر جب جسم مل رہا تھا تو پھر کسی کی منت کرنے کی کیا ضرورت تھی اسی طرح وقت گزرتا گیا گزرتا گیا اخر کار وہ دن بھی اگیا جب میں شادی کے بالکل قابل ہو گیا اور اسی لڑکی سے میری شادی ہو گئی جو لڑکی مجھے اپنی زندگی کے اندر بہت ہی زیادہ پسند تھی پھر میری زندگی کے اندر مزے ہی مزے ہو گئے اور سکون ہی سکون ہو گیا لیکن اس سارے واقعے سے مجھے ایک بات سمجھ اگئی تھی کہ اگر ہم زندگی کے اندر صبر کریں گے تو یقینا ہمارے لیے بہتری ہوگی اور جو لوگ جلد بازیاں کرتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی زندگی کے اندر بہت ہی زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں اور میں اس سے بہت کچھ سیکھا اس کے بعد میں نے اپنی زندگی کے اندر صبر کو اپنا لیا اور کبھی بھی ایسی غلطی نہیں کی جو مجھے مکمل طور پر تباہ و برباد کر کے رکھ دی اور واقعہ انسان جلد باز ہے کبھی کبھی انسان وقت سے پہلے وہ چاہتا ہے جو اس کے لیے ہوتا نہیں ہے لیکن کبھی کبھی انسان کو وہ بھی مل جاتا ہے جو اس کے لیے ہوتا ہے لیکن اگر انسان سفر کرے یہ سفر کے ساتھ سارا سلسلہ قائم رکھے تو

.........................................................................

English


Once I loved my mother's daughter, I used to feel very good whenever I came from school, I used to go to her house at about 17 years old, but she was so nice to me that she was so good in my dreams that she was so good in my dreams. I used to have a night with her. I had a chest, it was thick, it was thick, it was just in the same way Lenny is because I was not able to bear. My Lin did not give me gold. When they got married, they said, "be patient for two or four years. We will do it.
I will give her daughter to her daughter but after three years, but I was not getting tolehish me and I was not bear in the thoughts of the thoughts, and I was living in the same thoughts, but I used to tell me that he would have been married to travel, but I would have had to be happy, but I did not have to bear all the time I had to do this, but I did not know anything else in the love, and I did not know anything more than I was doing that there was a lot of the world and nothing more than her house, but his mother was her mother and her brother, and her brother was alone inside her house, because he had to take some of his family and his brother, and was brought to her mother, and her brother was alone inside her house. "
Because my uncle was the one who used to do the job, he used to come home two or three times in the month or six months. When he went home, his house was empty, there was no one inside his street, except when I saw him alone, I did not tolerate it, and my heart would catch him and hang him on the bed and just do his work, but then I was afraid that if someone else came from above, the work would be very bad. I was afraid that I would think for a long time and think about his family too. I thank you that I did not hold it, or else the work was to get worse and the water was to go back to all the plans, then I came home and kept thinking for a long time that it should be brought to the butt for a night, but it was a lot of days in my plan, but I did not think that if I got married then I would have fun, but my heart was just stubborn, not his work before marriage All that has to be done, but it was certainly very difficult to do soBecause it was not our job, it could have ended the relationship and could have been on the relationship, but in my thoughts I was just in my dreams and there was no one else, and I was thinking that my family had sent me to Lahore for work. I kept working there for three months and it was compulsory for me because I had to listen to the family for two months, I kept eating and drinking with friends On the way there, in a place inside Lahore where the money was sold, my friend gave me a habit, so I went there, I enjoyed the whole night within a thousand rupees and I got used to it, and I forgot that for which I had done so much effort, when the body was getting a thousand rupees, then what was the need to ask for someone, so the time passed
The last day also came when I was able to get married and I got married to the same girl who loved me very much inside my life, and it was fun inside my life, but with all this incident I understood one thing that if we are patient within life, there will definitely be improvement for us and those who make a hurry always suffer a lot in their lives and I learned a lot from it, then I took patience inside my life and ever He did not make any mistake that completely destroyed me and the event was human.

......................................................................


Tags

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)